زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا، جب مصروفیت نے دل و دماغ اپاہج کر دیے تھے۔ میں تیار ہو کر، کام پر جانے سے پہلے، محض قرآن پاک کھول کر دیکھ لینا بھی غنیمت سمجھتا تھا۔ اور یہ وہ دن تھے، جب تلاوت تو بڑی دور کی بات ہے، میں ایک آیت کریمہ پر اچٹتی نظر ڈالنے کی مہلت ملنا بھی خوش نصیبی سمجھتا تھا۔
مجھے یاد ہے میں قرآن پاک چومتا، کھولتا، مختلف صفحات الٹ پلٹ کر دیکھتا، اور بند کر کے چومتا، اور شیلف میں رکھ دیتا۔
بعض دفعہ کسی درمیان والے صفحے کو آنکھوں سے لگاتا، اس کی خوشبو محسوس کرتا، ایک لمبا سا سانس لیتا، اور دوبارہ طاق میں رکھ دیتا۔
وہ جو قرآن پاک کے صفحوں کی ایک لمحے کی خوشبو تھی، وہ بھی کسی بہت بڑی خوشی سے کم نہیں تھی۔
ہوتا یہ ہے، آپ دنیا کو ترجیح دیتے ہو، کہ پہلے کمائی کر لوں، پہلے روٹی پانی کما لوں، پھر فرصت ملی تو نماز پڑھ لوں گا، تلاوت کر لوں گا، اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے، کہ فرصت ملتی ہی نہیں۔ آپ ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں، کہ یہ وقت بھی اپنے کام کو دوں، یہ وقت بھی کمائی کرنے میں لگاؤں، یہ وقت بھی دنیا سیکھنے میں صرف کروں، اور آپ دھنستے چلے جاتے ہیں۔
میں پروف ریڈنگ کا کام کرتا تھا ، اور ہر وقت ایک ہی سوچ سوار رہتی، کہ ایک صفحہ پڑھ لوں تو دس روپے ملیں گے۔
ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ بھئی نماز پڑھنی ہے، چاہے جیسے بھی، چاہے جیسی بھی، چاہے کتنی ہی مختصر، اور تلاوت کرنی ہے، چاہے کتنی ہی مختصر، اور قرآن پاک کی زیارت کرنی ہے، چاہے ایک لمحے کو ہی سہی، روزانہ، بلاناغہ، باقی جو کچھ بچا وہ روزی روٹی میں لگا دیتا ہوں۔
مزہ بھی اسی کا ہے۔
جو مزہ کسی غضب کی مصروفیت سے کچھ لمحے نکال کر نماز یا قرآن پاک پڑھنے میں ہے، جب مصروفیت سر پر سوار ہو، جب سجدہ سہو دینا پڑ رہا ہو، جب کوئی سوچ نماز اور تلاوت میں محو نہ ہونے دے رہی ہو، جب ہر سوچ کام کی مصروفیت سے متعلق ہو، اس نماز کا بھی ایک اپنا ہی لطف ہوتا ہے، بلکہ بہت ہی خوبصورت لطف ہوتا ہے، اس نماز اور تلاوت کا بھی ایک بہت ہی نایاب قسم کا سکون اور آرام ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دل و دماغ کو دین اور آخرت کی محبت سے آباد فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ
Post a Comment
Post a Comment